جنرل صاحب گذر گئے اور میں قلم ہاتھ میں تھامے سوچ رہا ہوں کہ ان کی وفات پر کیا لکھوں - کیونکہ لکھنے کو کچھ ہے
ہی نہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ میں انہیں ذاتی طور پر نہیں جانتا تھا
جنرل صاحب میرا کالم نہیں پڑھتے تھے سو مجھے فون کر کے اس پر رائے دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا - میرا کالم پڑھنا تو دور کی بات ، انھیں شاید میرا نام تک نہیں معلوم تھا ورنہ جس طرح کے عجیب و غریب کالم نگاروں کو وہ فون کرتے رہے ہیں، کوئی بعید نہیں تھا کہ مجھے بھی فون کر دیتے یا کم از کم مسڈ کال ہی مار دیتے
جنرل صاحب ایک شفیق شوہر تھے - شوہر تو خیر میں بھی برا نہیں - اگلے دن ہی آپ کی بھابھی کو سخت پیٹ درد اٹھا تو میں انھیں فوری طور پر ایمرجنسی لے گیا اور خود ان کے سرہانے بیٹھ کر ففٹی شیڈز آف گرے پڑھتا رہا - قسم لے لیں اگر سگریٹ سلگانے کے لئے بھی باہر نکلا ہوں - ہسپتال جاتے ہوے اپنے تمام صحافی دوستوں کو کال کر کے بتا دیا کہ شاید ان میں سے کوئی جنرل صاحب کو بتا دیں اور وہ عیادت کے لیے آ جائیں - پر کتھوں
جنرل صاحب بہت ملنسار آدمی تھے - یہ میں نے سن رکھا تھا - سو ایک دفعہ جب اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے سوچا کہ اس بار انھیں ملے بغیر نہیں لوٹنا - بہت تحقیق کی اور پتہ چلایا کہ جنرل صاحب سے ملنے کا بہترین ذریعہ میجر عامر ہیں - وہ ہر بندے کو اٹھا کر جنرل صاحب کے پاس لے جاتے ہیں - اب سچ تو یہ ہے کہ میری میجر عامر سے بھی سلام دعا نہیں - ان کے گھر پہنچا تو چوکیدار نے اندر اطلاع تک کرنے سے انکار کر دیا - میں نے ان کے گھر کے باہر پڑاؤ ڈال دیا کہ کبھی تو گھر سے نکلیں گے - تین ایک گھنٹوں کے بعد ایک گاڑی میرے پاس آ کے رکی اور اس میں سوار بڑی بڑی مونچھوں والے افراد مجھے گاڑی میں بٹھا کر ایک کوٹھی میں لے گئے - وہاں جو کچھ ہوا اس کا تعلق جنرل صاحب سے نہیں سو یہ کہانی پھرسہی- ویسے بھی اگر دو ایک دن چلنے میں مشکل ہو تو کیا - آخر کو ادارے ہمارے اپنے وطن کے ہی ہیں ، پرائے تو نہیں
ایک دفعہ جنرل صاحب کی صاحبزادی کو اپنے ٹرانسپورٹ بزنس میں ایک مسئلے کا سامنا ہوا تو میں نے سوچا کہ یہ ایک سنہرا موقع ہے جنرل صاحب سے تعلقات بنانے کا - کئی سال ویگنوں میں سفر کرنے کی وجہ سے میں کئی ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کو جانتا تھا لیکن اس سے پہلے کہ میں انھیں لائن اپ کرتا ، ایک اور کالم نگار نے وہ مسئلہ حل کروا دیا - جنرل صاحب کی انکساری کا یہ عالم تھا کہ بعد از ریٹائرمنٹ ان کے تمام مسئلے کالم نگاروں نے حل کروائے - جنرل صاحب نے خود کبھی اپنے تعلقات استعمال نہیں کے - گمان غالب ہے کہ ایک دفاعی تجزیہ نگار اگر آج کل سعودی جیل میں نہ ہوتے تو وہ شاید جنرل صاحب کو مرنے تک سے بچا لیتے
لوگ کہتے ہیں کہ افغان مجاہدین جنرل صاحب سے بہت محبت کرتے تھے - ایک دن مجھے گلی میں ایک افغان مجاہدین نظر آیا جو بچوں سے پیسے لے کر نشانے بازی کروا رہا تھا - میں نے بھی نشانے بازی کے بہانے اس سے جنرل صاحب کے بارے میں پوچھا - پندرہ منٹ تک وہ مجھ سے اپنے غبارے پھٹوانے کے دوران جنرل صاحب کی وجاہت کے گن گاتا رہا - جاتے ہوئے میں نے اسے کہا کہ بندہ خدا ، وجاہت کے علاوہ بھی کچھ بتا - بولا "خانا ، وہ ہیروئین کو ڈا-نس بوہت اچھا کراتی تھی" - تب مجھے معلوم ہوا کہ وہ بد بخت تو عجب گل کی بات کر رہا تھا
جنرل صاحب ایک سچے پاکستانی تھے - یہ مجھے لوگوں نے بتایا ہے - چونکہ میں ان سے کبھی ملا نہیں اس لئے معلوم نہیں کہ الیکشن میں دھاندلی کروانےمیں حب الوطنی کا کتنا حصّہ ہوتا ہے - اور جس طرح وہ سچے پاکستانی تھے اسی طرح کے سچے مسلمان بھی تھے - اس دوسرے امر کی دلیل یہ ہے کہ وہ ٹھوس شواہد کے ہوتے ہوئے بھی کسی واقعے کی صحت سے انکارکرنے میں جھجھکتے نہیں تھے
جیسا کہ بہت سے دوسرے کالم نگار لکھ رہے ہیں مجھے بھی ان سے سینکڑوں اختلافات تھے لیکن انہیں کالم نگاروں کی طرح مجھے ان سے محبت اور عقیدت بھی تھی - ویسے تو مجھے اور بھی بہت سے لوگوں سے اتنے ہی اختلافات ہیں ، اور ان میں سے بعضے تو جنرل صاحب سے بھی زیادہ لمبی لمبی پھینکتے ہیں ، لیکن ان میں سے کوئی بھی سابق جرنیل نہیں سو کاہے کی محبت اور کہاں کی عقیدت بھیا
اور بھی لکھتا لیکن ناشناسائی مانع ہے - دل تو چاہتا ہے کہ ان کی یادوں کے اجالوں کی مدد سے میں اپنی زندگی پر کچھ اور روشنی ڈالوں لیکن حقیقت یہی ہے کہ
کیا میرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور