Monday, September 14, 2015

بلا مقابلہ شادی کی ابکائی



جب بھی کسی بھی  کا شادی کی خبر ہم سنتے ، دیکھتے یا پڑھتے ہیں تو ہم ایک لفظ یا اصطلاح سے 
"اکثر اپنا واسطہ پاتے ہیں  ، اور وہ ہے "بلا مقابلہ شادی 

جب بھی کسی بھی لڑکی کے لئے کوئی شخص "بلا مقابلہ" "منتخب" ہوتا ہے تو اس کے حمایتی اسے اس شخص کی قابلیت  اور اپنے خاندان  کی مقبولیت کا پیمانہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور اسی سانس میں اپنے "مخالفوں" کی عدم مقبولیت کا ٹھٹھا اور مذاق اڑاتے ہیں

بلا مقابلہ شادی کو اپنے موقف کی سچائی اور اپنے آپ کو حق پر ہونے کا پیمانہ بھی بنا کر پیش کیا جاتا ہے ، اسکو اپنے افکار کی صداقت و اصابت کی دلیل کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے

آئیے آج اس کریہہ الصورت، آمرانہ ، گھٹیا ، متکبرانہ . دوسروں کو نیچ سمجھنے والے، سوچ و بچار سے خالی، طبقاتی، بزدل ، میدان سے راہ فرار اختیار کرنے والے، دھوکہ دہی والے، حق انتخاب سے محروم کرنے والے بیانئے کا پوسٹ مارٹم یعنی تیا پانچہ کرتے ہیں

کسی بھی معاشرے میں قابلیت  ، کردار پر سوالات اور ان کے دفاع میں مضمر ہوتی ہے ، اور یہ کام ان خیالات و افکار کو لڑکی کے سامنے پیش کرکے ، اس کے گھر والوں کو انکی تفتیش کی دعوت دیکر ، خاندان  کو اس بارے قائل کرکے اور لڑکیوں کو انکو قبول کرنے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے. ہر لڑکا  ، تمام مسائل کے حل کیلئے اپنا نقطہ نظر پیش کرتا ہے اور اس حل یا نقطہ نظر کو عملی طور پر نافذ کرنے کا ایک طریقہ کار بھی . اگر کوئی نظریہ یا فکر صرف چند لوگوں کے ذہنوں میں رہے اور اسے  لڑکی کے سامنے پیش کرنے سے چھپایا جائے یا  لڑکی کو اس کی جانچ یا پرکھ کا موقع نہ دیا جائے اور دھونس ، دھاندلی ،دھوکہ دہی، طاقت اور فریب  سے  کسی شخص کو اس لڑکی کا  "بلا مقابلہ" شوہر  بنا دیا جائے تو یہ نا صرف لوگوں کی حق تلفی ہوتی ہے بلکہ لوگوں کو انکے "حق زوجیت " سے بزور طاقت محروم بھی کرنا ہوتا ہے

یہ لڑکی  کو اس بات سے محروم کرنا ہوتا ہے کہ وہ ہر لڑکے  کے  خیالات ، فکر اور پروگرام سے آگاہ و واقف  ہوں ، ، یہ لڑکی کو اس فکر ، خیالات اور پروگرام کی حقیقت جانچنے کی بحث و موقع سے محروم کرنا ہے کہ وہ اس بارے اپنی کوئی رائے دے سکے  یا اس کی حقیقت یا سچائی پر سوالات اٹھا سکے  ، یہ لڑکی کو بغیر کسی بنیاد یا اصول کے صرف اندھا اعتماد کرنے کی زبردستی کرنا ہے، یہ خود لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو ،اپنے کردار  کو ، اپنی قابلیت  کو پیش کرنے سے راہ فرار اختیار کرنا اور انتہا درجے کی بزدلی بھی دکھانا ہے ، یہ لوگوں کو بیوقوف ، کمتر اور جاہل بھی سمجھنا ہے کہ وہ اس قابل نہیں ہے کہ ان کو حق انتخاب دیا جائے تاکہ وہ کسی قسم کی تمیز کر کے لڑکی کا شوہر چن سکیں

اس "بلا مقابلہ" انتخاب کے تصور کا ایک اور بھی پہلو ہے ، وہ یہ کہ اس کو ایک جائز و قانونی تحفظ دیا جاتا ہے ، اصل میں اشرافیہ نے لڑکیوں کے استحصال کے جو بیشمار قاعدے قانون ، طریقہ کار اور نظام بنائے ہوئے ہیں ، یہ بھی ان میں شامل ہے، ایک "قانونی" طریقہ کار بنایا گیا ہے کہ جب تک کوئی عام شخص ایک پیچیدہ طریقہ کار کو اختیار نا کرے اس کو یہ "حق"  ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو رشتے کے لئے پیش کر سکے. خاندان ہی یہ فیصلہ کرنے کا "اختیار" رکھتا ہے کہ کس شخص/اشخاص  کو لڑکی  کے سامنے اس کے ممکنہ شوہر کے طور پر پیش کرنا ہے تاکہ  وہ انہی میں سے اپنا شوہر چن سکے اور اسکے علاوہ اس کو  کوئی حق نہیں ہوگا کہ کسی اور کو اپنا خاوند چن سکے . اگروہ  خاندان  شوہر  بننے کیلئے شامل ہونے والے  تمام لوگوں میں ایک کو چھوڑ کر تمام کو رد  کر دے تو خاندان کا "چنا" ہوا  شخص لڑکی کا "منتخب" قرار دے دیا جائے گا

دیدہ دلیری اور ڈھٹائی دیکھئے کہ ایک شخص جس نے اپنے آپ کو لڑکی کے سامنے پیش بھی نہیں کیا محض خاندان  کے طریقہ کار کی بدولت "شوہر" قرار دے دیا جاتا ہے ، اس سے بڑھ کر ابکائی والی بات کیا ہوگی . اسی طرح لڑکی  کے شوہر  بننے کے دوسرے امیدوار جو اسکے مقابلہ سے دستبردار ہو جاتے ہیں ان سے بڑا بزدل اور بے غیرت کوئی نہیں ہوتا جو اپنے اس عمل سے لڑکی کو اس کے  حق انتخاب سے محروم  رکھنے کی سازش میں بالواسطہ شامل ہوتے ہیں . اگر کوئی محض اس وجہ سے مقابلے سے دستبردار ہو جائے کہ میں بری طرح مسترد کر دیا جاؤں  گا تو یہ پرلے درجے کی پست ہمتی اور ڈرپوک پن ہے . اسکی بجائے ہمت دکھائیں اور لڑکی  کو حق انتخاب دینے میں مدد گار بنیں

پاکستان میں نسوانی آزادی  کے بڑے بڑے  دعویدار  سیاسی کارکن ، صحافی ، دانشور ، مفکر ، بجائے اس فکری گھٹیا پن پر اعتراض کرنے کے ، اس متکبرانہ سوچ کو رد کرنے کے ، اس جنگلی قانون کو بدلنے یا اصلاح کرنے کے ، لڑکی کو اس کے حق انتخاب سے محروم کرنے کی سازش کے خلاف آواز اٹھانے کے ، جب بھی کوئی "بلا مقابلہ منتخب"   ہوتا ہے تو اس شخص پر مبارکباد  کے ڈونگرے برساتے ہیں ، اسکی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں ، اس کو دیوتا بنا کر پیش کرتے ہیں ، اسکو لڑکیوں کی پسند کا پیمانہ بنا کر پیش کرتے ہیں

صد افسوس ہے ایسی چھوٹی سوچ و فکر پر جو محض ایک طریقہ کار کی چالاکی اور دھونس سے لڑکی سے اس کا حق انتخاب چھین لے ، اس سوچ اور ایک آمرانہ فسطائی سوچ و عمل میں کوئی فرق نہیں ہے اور اس سب کے باوجود جو اپنے آپ کو نسوانی آزادی کا علمبردار کہلواتا ہے اس سے بڑا دھوکہ باز کوئی نہیں ہے  


اس لئے اپنی ذاتی حیثیت میں ، سیاسی کارکن کے طور پر ، ایک تبصرہ نگار کے طور پر یا  ایک لکھاری کے طور پر اس ابکائی زدہ تصور اور فکر کی مذمت کیجئے اور اسکے خلاف آواز اٹھائیے ، یاد رکھیں کہ "بلا مقابلہ انتخاب" صرف ایک فکری و نظریاتی طور پر مردہ معاشرے اور قوم میں ہوتے ہیں 

Wednesday, August 19, 2015

آہ جنرل صاحب !!


جنرل صاحب گذر گئے اور میں قلم ہاتھ میں تھامے سوچ رہا ہوں کہ ان کی وفات پر کیا لکھوں - کیونکہ لکھنے کو کچھ ہے 
ہی نہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ میں انہیں ذاتی طور پر نہیں جانتا تھا  

 جنرل صاحب میرا کالم نہیں پڑھتے تھے سو مجھے فون کر کے اس پر رائے دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا - میرا کالم پڑھنا تو دور کی بات ، انھیں شاید میرا نام تک نہیں معلوم تھا ورنہ جس طرح کے عجیب و غریب کالم نگاروں کو وہ فون کرتے رہے ہیں، کوئی بعید نہیں تھا کہ مجھے بھی فون کر دیتے یا کم از کم مسڈ کال ہی مار دیتے 

جنرل صاحب ایک شفیق شوہر تھے - شوہر تو خیر میں بھی برا نہیں - اگلے دن ہی آپ کی بھابھی کو سخت پیٹ درد اٹھا تو  میں انھیں فوری طور پر ایمرجنسی لے گیا اور خود ان کے سرہانے بیٹھ کر ففٹی شیڈز آف گرے پڑھتا رہا - قسم لے لیں اگر سگریٹ سلگانے کے لئے بھی باہر نکلا ہوں - ہسپتال جاتے ہوے اپنے تمام صحافی دوستوں کو کال کر کے بتا دیا کہ شاید ان میں سے کوئی جنرل صاحب کو بتا دیں اور وہ عیادت کے لیے آ جائیں - پر کتھوں 

جنرل صاحب بہت ملنسار آدمی تھے - یہ میں نے سن رکھا تھا - سو ایک دفعہ جب اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے سوچا کہ اس بار انھیں ملے بغیر نہیں لوٹنا - بہت تحقیق کی اور پتہ چلایا کہ جنرل صاحب سے ملنے کا بہترین ذریعہ میجر عامر ہیں - وہ ہر بندے کو اٹھا کر جنرل صاحب کے پاس لے جاتے ہیں - اب سچ تو یہ ہے کہ میری میجر عامر سے بھی سلام دعا نہیں - ان کے گھر پہنچا تو چوکیدار نے اندر اطلاع تک کرنے سے انکار کر دیا - میں نے ان کے گھر کے باہر پڑاؤ ڈال دیا کہ کبھی تو گھر سے نکلیں گے - تین ایک گھنٹوں کے بعد ایک گاڑی میرے پاس آ کے رکی اور اس میں سوار بڑی بڑی مونچھوں والے افراد مجھے گاڑی میں بٹھا کر ایک کوٹھی میں لے گئے - وہاں جو کچھ ہوا اس کا تعلق جنرل صاحب  سے نہیں سو یہ کہانی پھرسہی- ویسے بھی اگر دو ایک دن چلنے میں مشکل ہو تو کیا - آخر کو ادارے ہمارے اپنے وطن کے ہی ہیں ، پرائے تو نہیں 


ایک دفعہ جنرل صاحب کی صاحبزادی کو اپنے ٹرانسپورٹ بزنس میں ایک مسئلے کا سامنا ہوا تو میں نے سوچا کہ یہ ایک سنہرا موقع ہے جنرل صاحب سے تعلقات بنانے کا - کئی سال ویگنوں میں سفر کرنے کی وجہ سے میں کئی ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کو جانتا تھا لیکن اس سے پہلے کہ میں انھیں لائن اپ کرتا ، ایک اور کالم نگار نے وہ مسئلہ حل کروا دیا - جنرل صاحب کی انکساری کا یہ عالم تھا کہ بعد از ریٹائرمنٹ ان کے تمام مسئلے کالم نگاروں نے حل کروائے - جنرل صاحب نے خود کبھی اپنے تعلقات استعمال نہیں کے - گمان غالب ہے کہ ایک دفاعی تجزیہ نگار اگر آج کل سعودی جیل میں نہ ہوتے تو وہ شاید جنرل صاحب کو مرنے تک سے بچا لیتے  

لوگ کہتے ہیں کہ افغان مجاہدین جنرل صاحب سے بہت محبت کرتے تھے - ایک دن مجھے گلی میں ایک افغان مجاہدین نظر آیا جو بچوں سے پیسے لے کر نشانے بازی کروا رہا تھا - میں نے بھی نشانے بازی کے بہانے اس سے جنرل صاحب کے بارے میں پوچھا - پندرہ منٹ تک وہ مجھ سے اپنے غبارے پھٹوانے کے دوران جنرل صاحب کی وجاہت کے گن گاتا رہا - جاتے ہوئے میں نے اسے کہا کہ بندہ خدا ، وجاہت کے علاوہ بھی کچھ بتا - بولا "خانا  ، وہ ہیروئین کو ڈا-نس بوہت اچھا کراتی تھی" - تب مجھے معلوم ہوا کہ وہ بد بخت تو عجب گل کی بات کر رہا تھا 

جنرل صاحب ایک سچے پاکستانی تھے - یہ مجھے لوگوں نے بتایا ہے - چونکہ میں ان سے کبھی ملا نہیں اس لئے معلوم نہیں کہ الیکشن میں دھاندلی کروانےمیں حب الوطنی کا کتنا حصّہ ہوتا ہے - اور جس طرح وہ سچے پاکستانی تھے اسی طرح کے سچے مسلمان بھی تھے - اس دوسرے امر کی دلیل یہ ہے کہ وہ ٹھوس شواہد کے ہوتے ہوئے بھی کسی واقعے کی صحت سے انکارکرنے میں جھجھکتے نہیں تھے 

جیسا کہ بہت سے دوسرے کالم نگار لکھ رہے ہیں  مجھے بھی ان سے سینکڑوں اختلافات تھے لیکن انہیں کالم نگاروں کی طرح مجھے ان سے محبت اور عقیدت بھی تھی - ویسے تو مجھے اور بھی بہت سے لوگوں سے اتنے ہی اختلافات ہیں ، اور ان میں سے بعضے تو جنرل صاحب سے بھی زیادہ لمبی لمبی  پھینکتے ہیں  ،  لیکن ان میں سے کوئی بھی سابق جرنیل نہیں سو کاہے کی  محبت اور کہاں کی عقیدت بھیا 

اور بھی لکھتا لیکن ناشناسائی مانع ہے - دل تو چاہتا ہے کہ ان کی یادوں کے اجالوں کی مدد سے میں اپنی زندگی پر کچھ اور روشنی ڈالوں لیکن حقیقت یہی ہے کہ 
کیا میرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور 




Friday, July 24, 2015

Yellow Submarine



They were all sitting around a semi-circular table. Everyone looked anxious. Some were cracking their knuckles, others were nervously combing their hair with their fingers, while looking at the one empty chair waiting for him to come and sit in it. A song played in the background on a very low volume.
In the town where I was born
Lived a man who sailed to sea
And he told us of his life
In the land of submarines

He came into the room looking tired and disinterested. Lazily, he occupied the one empty chair. Leaning at the table, staring at the surface of the table in front of him, he sighed.  Everyone awaited his words.

Still looking at no one, still staring at the table’s surface, he said, “It is not what it is.”

Some exhaled. Some inhaled. Some uttered a suppressed “oh”.

One of them, fidgeting in his seat said, “So where are we now?”

He took some time for the question to sink in and then said, “Well…we are where we are and I told you that we will be here.”

Some glances around the table with the same question in the eyes, “did he tell us?” and then someone, in not so certain a tone, said, “yes sir, you did tell us but where we do go from here?”

He started nodding….a faint, somewhat sad smile appeared on his face. His fingers slowly started tapping the surface of the table. After the silence of a couple of minutes he said, with the same smile affixed on his face, “That is the question. Isn’t it? And the answer is clear and yet not obvious. You see it right in front of you, don’t you? And yet you won’t see it till I tell you it is there. Isn’t that the case?”

A collective nodding and a chorus of “yes, yes, that is the case” followed.

“To understand where we are going is to know exactly where we are, “he said, “but although we know where we are, we know, but we don’t understand. Am I right?”

Another tentative chorus of “yes, yes, that is right”.

“So,” he lifted his head and looked at everyone for the first time “you have to pay attention to the song playing in the background. Listen carefully to the next lines.”

Everyone strained to listen to the song with their eyes squinted as if that accentuates the sense of hearing.
We all live in a yellow submarine
Yellow submarine, yellow submarine
We all live in a yellow submarine
Yellow submarine, yellow submarine

Everyone stood up at once and rushed to the door to convey the message to the masses.