جب بھی کسی بھی کا شادی کی خبر ہم سنتے ، دیکھتے یا پڑھتے ہیں تو ہم ایک لفظ یا اصطلاح سے
"اکثر اپنا واسطہ پاتے ہیں ، اور وہ ہے "بلا مقابلہ شادی
جب بھی کسی بھی لڑکی کے لئے کوئی شخص "بلا مقابلہ" "منتخب" ہوتا ہے تو اس کے حمایتی اسے اس شخص کی قابلیت اور اپنے خاندان کی مقبولیت کا پیمانہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور اسی سانس میں اپنے "مخالفوں" کی عدم مقبولیت کا ٹھٹھا اور مذاق اڑاتے ہیں
بلا مقابلہ شادی کو اپنے موقف کی سچائی اور اپنے آپ کو حق پر ہونے کا پیمانہ بھی بنا کر پیش کیا جاتا ہے ، اسکو اپنے افکار کی صداقت و اصابت کی دلیل کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے
آئیے آج اس کریہہ الصورت، آمرانہ ، گھٹیا ، متکبرانہ . دوسروں کو نیچ سمجھنے والے، سوچ و بچار سے خالی، طبقاتی، بزدل ، میدان سے راہ فرار اختیار کرنے والے، دھوکہ دہی والے، حق انتخاب سے محروم کرنے والے بیانئے کا پوسٹ مارٹم یعنی تیا پانچہ کرتے ہیں
کسی بھی معاشرے میں قابلیت ، کردار پر سوالات اور ان کے دفاع میں مضمر ہوتی ہے ، اور یہ کام ان خیالات و افکار کو لڑکی کے سامنے پیش کرکے ، اس کے گھر والوں کو انکی تفتیش کی دعوت دیکر ، خاندان کو اس بارے قائل کرکے اور لڑکیوں کو انکو قبول کرنے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے. ہر لڑکا ، تمام مسائل کے حل کیلئے اپنا نقطہ نظر پیش کرتا ہے اور اس حل یا نقطہ نظر کو عملی طور پر نافذ کرنے کا ایک طریقہ کار بھی . اگر کوئی نظریہ یا فکر صرف چند لوگوں کے ذہنوں میں رہے اور اسے لڑکی کے سامنے پیش کرنے سے چھپایا جائے یا لڑکی کو اس کی جانچ یا پرکھ کا موقع نہ دیا جائے اور دھونس ، دھاندلی ،دھوکہ دہی، طاقت اور فریب سے کسی شخص کو اس لڑکی کا "بلا مقابلہ" شوہر بنا دیا جائے تو یہ نا صرف لوگوں کی حق تلفی ہوتی ہے بلکہ لوگوں کو انکے "حق زوجیت " سے بزور طاقت محروم بھی کرنا ہوتا ہے
یہ لڑکی کو اس بات سے محروم کرنا ہوتا ہے کہ وہ ہر لڑکے کے خیالات ، فکر اور پروگرام سے آگاہ و واقف ہوں ، ، یہ لڑکی کو اس فکر ، خیالات اور پروگرام کی حقیقت جانچنے کی بحث و موقع سے محروم کرنا ہے کہ وہ اس بارے اپنی کوئی رائے دے سکے یا اس کی حقیقت یا سچائی پر سوالات اٹھا سکے ، یہ لڑکی کو بغیر کسی بنیاد یا اصول کے صرف اندھا اعتماد کرنے کی زبردستی کرنا ہے، یہ خود لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو ،اپنے کردار کو ، اپنی قابلیت کو پیش کرنے سے راہ فرار اختیار کرنا اور انتہا درجے کی بزدلی بھی دکھانا ہے ، یہ لوگوں کو بیوقوف ، کمتر اور جاہل بھی سمجھنا ہے کہ وہ اس قابل نہیں ہے کہ ان کو حق انتخاب دیا جائے تاکہ وہ کسی قسم کی تمیز کر کے لڑکی کا شوہر چن سکیں
اس "بلا مقابلہ" انتخاب کے تصور کا ایک اور بھی پہلو ہے ، وہ یہ کہ اس کو ایک جائز و قانونی تحفظ دیا جاتا ہے ، اصل میں اشرافیہ نے لڑکیوں کے استحصال کے جو بیشمار قاعدے قانون ، طریقہ کار اور نظام بنائے ہوئے ہیں ، یہ بھی ان میں شامل ہے، ایک "قانونی" طریقہ کار بنایا گیا ہے کہ جب تک کوئی عام شخص ایک پیچیدہ طریقہ کار کو اختیار نا کرے اس کو یہ "حق" ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو رشتے کے لئے پیش کر سکے. خاندان ہی یہ فیصلہ کرنے کا "اختیار" رکھتا ہے کہ کس شخص/اشخاص کو لڑکی کے سامنے اس کے ممکنہ شوہر کے طور پر پیش کرنا ہے تاکہ وہ انہی میں سے اپنا شوہر چن سکے اور اسکے علاوہ اس کو کوئی حق نہیں ہوگا کہ کسی اور کو اپنا خاوند چن سکے . اگروہ خاندان شوہر بننے کیلئے شامل ہونے والے تمام لوگوں میں ایک کو چھوڑ کر تمام کو رد کر دے تو خاندان کا "چنا" ہوا شخص لڑکی کا "منتخب" قرار دے دیا جائے گا
دیدہ دلیری اور ڈھٹائی دیکھئے کہ ایک شخص جس نے اپنے آپ کو لڑکی کے سامنے پیش بھی نہیں کیا محض خاندان کے طریقہ کار کی بدولت "شوہر" قرار دے دیا جاتا ہے ، اس سے بڑھ کر ابکائی والی بات کیا ہوگی . اسی طرح لڑکی کے شوہر بننے کے دوسرے امیدوار جو اسکے مقابلہ سے دستبردار ہو جاتے ہیں ان سے بڑا بزدل اور بے غیرت کوئی نہیں ہوتا جو اپنے اس عمل سے لڑکی کو اس کے حق انتخاب سے محروم رکھنے کی سازش میں بالواسطہ شامل ہوتے ہیں . اگر کوئی محض اس وجہ سے مقابلے سے دستبردار ہو جائے کہ میں بری طرح مسترد کر دیا جاؤں گا تو یہ پرلے درجے کی پست ہمتی اور ڈرپوک پن ہے . اسکی بجائے ہمت دکھائیں اور لڑکی کو حق انتخاب دینے میں مدد گار بنیں
پاکستان میں نسوانی آزادی کے بڑے بڑے دعویدار سیاسی کارکن ، صحافی ، دانشور ، مفکر ، بجائے اس فکری گھٹیا پن پر اعتراض کرنے کے ، اس متکبرانہ سوچ کو رد کرنے کے ، اس جنگلی قانون کو بدلنے یا اصلاح کرنے کے ، لڑکی کو اس کے حق انتخاب سے محروم کرنے کی سازش کے خلاف آواز اٹھانے کے ، جب بھی کوئی "بلا مقابلہ منتخب" ہوتا ہے تو اس شخص پر مبارکباد کے ڈونگرے برساتے ہیں ، اسکی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں ، اس کو دیوتا بنا کر پیش کرتے ہیں ، اسکو لڑکیوں کی پسند کا پیمانہ بنا کر پیش کرتے ہیں
صد افسوس ہے ایسی چھوٹی سوچ و فکر پر جو محض ایک طریقہ کار کی چالاکی اور دھونس سے لڑکی سے اس کا حق انتخاب چھین لے ، اس سوچ اور ایک آمرانہ فسطائی سوچ و عمل میں کوئی فرق نہیں ہے اور اس سب کے باوجود جو اپنے آپ کو نسوانی آزادی کا علمبردار کہلواتا ہے اس سے بڑا دھوکہ باز کوئی نہیں ہے
اس لئے اپنی ذاتی حیثیت میں ، سیاسی کارکن کے طور پر ، ایک تبصرہ نگار کے طور پر یا ایک لکھاری کے طور پر اس ابکائی زدہ تصور اور فکر کی مذمت کیجئے اور اسکے خلاف آواز اٹھائیے ، یاد رکھیں کہ "بلا مقابلہ انتخاب" صرف ایک فکری و نظریاتی طور پر مردہ معاشرے اور قوم میں ہوتے ہیں
No comments:
Post a Comment